15 جون 2026 - 17:34
پینٹاگون کا نیا منصوبہ؛ مستقبل کی جنگوں کے لیے کم لاگت ہزاروں میزائل تیار کرنے کا فیصلہ/“ایران جنگ نے اسلحہ سازی کے روایتی نظام کی محدودیتیں آشکار کر

امریکی فوج اور فضائیہ نے آئندہ ممکنہ جنگوں کے لیے ہزاروں کم لاگت میزائلوں کی بڑے پیمانے پر پیداوار کا منصوبہ شروع کر دیا ہے، ایک ایسی تبدیلی جو ایران کے ساتھ حالیہ تنازع کے بعد امریکی دفاعی حکمتِ عملی میں نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مستقبل کی جنگی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کم قیمت اور تیزی سے تیار ہونے والے میزائلوں کی بڑے پیمانے پر پیداوار پر توجہ دے گا۔

رپورٹ کے مطابق یہ پالیسی اس وقت مزید تیز ہوئی جب ایران کے ساتھ حالیہ تنازع کے دوران امریکی ہتھیاروں کے بڑے پیمانے پر استعمال نے روایتی اور مہنگے ہتھیاروں کی تیاری کے ماڈل کی کمزوریوں کو واضح کر دیا۔

امریکی حکام کے مطابق جدید اور پیچیدہ ہتھیار اگرچہ زیادہ مؤثر سمجھے جاتے ہیں، لیکن ان کی پیداوار بہت سست ہے، اور جنگی صورتحال میں استعمال ہونے والے ذخائر کی دوبارہ تیاری میں مہینوں بلکہ سالوں کا وقت لگ سکتا ہے۔

Image

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کا ہدف ایسے میزائل تیار کرنا ہے جن کی لاگت چند لاکھ ڈالر فی یونٹ ہو، جبکہ پیٹریاٹ اور ٹوماہاک جیسے میزائلوں کی قیمت کئی ملین ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔

اسی تناظر میں امریکی دفاعی ادارے نے اسلحہ ساز کمپنیوں کے ساتھ نئے معاہدے شروع کیے ہیں تاکہ مہنگے اور پیچیدہ نظاموں کے بجائے تیز رفتار اور کم لاگت پیداوار پر توجہ دی جا سکے۔

ڈیفنس کمپنی "لیڈوس" کے ٹیکنالوجی ڈائریکٹر ڈگ جونز نے اس پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "کیا ایک مہنگی گاڑی کے بجائے دس سستے اور قابلِ استعمال ماڈلز بنانا بہتر نہیں؟"

رپورٹ کے مطابق کوسپائر، اینڈوریل، لیڈوس اور زون 5 جیسی کمپنیاں اس منصوبے میں شامل ہیں اور تھری ڈی پرنٹنگ اور تجارتی پرزوں کے استعمال کے ذریعے پیداوار کا وقت کم کرنے پر کام کر رہی ہیں۔

دفاعی منصوبہ سازوں کے مطابق امریکہ کا ہدف ہے کہ 2030 تک تقریباً 10 ہزار کم لاگت میزائل تیار کیے جائیں تاکہ مستقبل کی جنگوں میں ذخائر کی کمی کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ تنازع کے دوران امریکہ نے بڑی تعداد میں مہنگے میزائل استعمال کیے، جس کے بعد اس کے دفاعی ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔

امریکی سینیٹ کی مسلح خدمات کمیٹی کے رکن جیک ریڈ کے مطابق اس جنگ نے یہ واضح کر دیا کہ درست نشانے والے مہنگے ہتھیاروں کے باوجود امریکہ کو گولہ بارود کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

نیویارک ٹائمز اور سی این این کی رپورٹس کے مطابق امریکہ کے کئی اہم میزائل ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں، اور ان کی مکمل بحالی میں طویل وقت درکار ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ بڑی تعداد میں سستے اور تیزی سے تیار ہونے والے ہتھیار بھی فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha